Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستاناقوام متحدہ میں پاکستان کا دھماکہ خیز مؤقف — امریکی دباؤ مسترد،...

ٹرینڈنگ

اقوام متحدہ میں پاکستان کا دھماکہ خیز مؤقف — امریکی دباؤ مسترد، ابراہام معاہدے پر صاف انکار!

اقوام متحدہ میں پاکستان کا دھماکہ خیز مؤقف — امریکی دباؤ مسترد، ابراہام معاہدے پر صاف انکار! اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ کے خطاب نے عالمی سفارت کاری میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اپنے دو ٹوک مؤقف میں پاکستان نے واضح کیا کہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے تحت خارجہ پالیسی تبدیل نہیں کی جائے گی، اور فلسطین کے مسئلے کے مستقل اور منصفانہ حل کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا کوئی امکان موجود نہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی روابط اور علاقائی معاہدوں پر زور دیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے اس تناظر میں اپنے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کے حقوق اور دو ریاستی حل کے بغیر کسی نئے سفارتی فریم ورک کی حمایت ممکن نہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ خطاب صرف ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صف بندی میں ایک واضح پیغام بھی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اس مؤقف نے مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری میں نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں مختلف مسلم ممالک پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور فلسطین کے مسئلے پر مختلف حکمتِ عملیاں اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے خطے میں سفارتی توازن، امریکی حکمتِ عملی اور اسلامی دنیا کے اندرونی اختلافات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر پاکستان نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی علاقائی اصولوں، فلسطینی مؤقف اور قومی سفارتی ترجیحات کے مطابق طے کی جائے گی، نہ کہ بیرونی دباؤ یا وقتی سیاسی مفادات کے تحت۔

مزید پڑھیں